نئی دہلی28 ستمبر(ایس او نیوز؍آ ئی این ایس انڈیا) شیوسینا نے مرکزی حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کے ذریعہ اقتصادی حالات کے متعلق مضمون کو غلط ثابت کر کے دکھائے، ساتھ ہی یہ بھی طنز کیا کہ اظہارخیال پر بھاجپا کون سی سزا تجویز کرے گی ؟
شییو سینا نے دعوی کیا کہ بی جے پی کے رہنمامعاشی بحران کے خلاف بات کرنے سے ڈرتے ہیں وہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہ ایسا کریں تو انہیں’نامعلوم خطرات ‘کا سامنا کرنا پڑے گا۔پارٹی نے اپنے ترجمان ’’سامنا ‘‘کے اداریہ میں لکھا: کچھ لوگ یہ مان لیتے ہیں کہ الیکشن جیتنے اور وی ایم مشینوں سے چھیڑ خانی کرنے سے یا دولت کے استعمال سے ترقی ہو جائے گی ؛ لیکن معیشت کی حالت اب انتہائی نازک ہے ۔اداریے میں کہا گیا ہے کہ جب منموہن سنگھ اور پی چدمبرم جیسے ماہرین نے معیشت کی حالت کا انکشاف کرنا چاہا تو اس کی تردید کر دی گئی اور ان کی مبینہ طور پر بیجا تنقید بھی کی ۔ اب بی جے پی کے اعلی رہنما جو طویل عرصے سے مالیاتی وزارت کے عہدے پر تھے،معیشت پر منڈلاتے خطرات کے بادل کے ذیل میں زبان کھولی ہے تو انہیں بے ایمان یا ملک مخالف قرار دینے میں دریغ نہیں کیا جا رہا ہے ۔
اگر یشونت سنہا جھوٹے اور مفاد پرست ہیں تو پھر اس بات کا ثبوت پیش کئے جائیں کہ ان کی طرف سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ کئی سینئر بی جے پی لیڈروں میں معیشت کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو لے کرفکر مندی اور ناراضگی پائی جارہی ہے ؛لیکن نامعلوم خطرات کے خوف سے وہ کچھ کہہ نہیں پاتے ۔ مزید اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ بھاجپا اپنے پالتو سوشل میڈیائی کارندوں کے ذریعہ بھی یشونت کو جھوٹا ثابت نہیں کر پائے گی ۔الزامات تھے کہ ایک طرف سے مقاصد کو پورا نہیں کرنے کے لئے بہت سے منصوبوں پر تنقید کی جارہی ہے، جبکہ حکومت کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے تاکہ کامیابی حاصل کرے.
خیال رہے کہ یشونت سنہا نے '' آئی نیڈ ٹو سپیک اپ ناؤ '' کے عنوان سے انگریزی اخبار کے ایڈیٹویل صفحہ پر ایک مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر معیشت کو ڈبونے کا الزام لگاتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔